سوات:آئس نشےکی عادی خاتون کی بپتا،لت کیسےلگی؟ thumbnail 13

سوات:آئس نشےکی عادی خاتون کی بپتا،لت کیسےلگی؟

دو ماہ علاج کےبعد خاتون نےبالآخر نشہ چھوڑ ديا

سوات کی رہائشی اسماء نے پسند کی شادی کی تھی لیکن اس کے صرف ڈیڑھ سال بعد ہی اسے آئس کے نشے کی لت لگ گئی اور صورتحال کچھ ایسی بگڑی کہ تھوڑی دیر نشہ نہ ملنے پر وہ پاگل سی ہوجایا کرتی۔

میٹرک پاس اسماء کی شادی 6 سال قبل ہوئی تھی اور اس کے دو بچے ہیں۔ ابتداء میں حالات اتنے خراب نہیں تھے لیکن پھر رفتہ رفتہ اسے احساس ہوگیا کہ اس کا شادی کا فیصلہ غلط تھا۔

سماء سے گفتگو کے دوران اسماء نے بتایا کہ اسے پسند کی شادی راس نہ آئی، وہ جب بھی اپنے شوہر سے کسی بھی ضروری شئے کا مطالبہ کرتی وہ اسے بری طرح پیٹنا شروع کردیتا اور ظلم کرنے کا کوئی بھی موقع  و طریقہ ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔

اسماء نے بتایا کہ اس کی شادی کو ابھی ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا کہ اس کے شوہر نے نہ جانے کیا سوچ کر اسے آئس کا نشہ دے دیا اور پھر کچھ ہی عرصے میں وہ اس نشے کی اتنی عادی ہوگئی کہ نشہ نہ ملنے پر اس کی حالت بے انتہا غیر ہوجاتی اور وہ نشے کے حصول کے لیے پاگلوں جیسا برتاؤ  کرنے لگ جاتی۔

اپنی اس مجبور و لاچار زندگی سے تنگ آئی اسماء نے ایک دن ایک بہتر فیصلہ کیا جو یہ تھا کہ وہ کسی بھی طرح اپنی اس نشے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرے گی۔ اپنی قوت ارادی کو مجتع کرکے بالآخر اس نے ایک بحالی مرکز کا رخ کیا جہاں نشے کے دیگر افراد کی طرح اس کا علاج بھی شروع ہوگیا۔

اسماء کا کہنا ہے کہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ نشہ اچھی چیز نہیں اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں اور ماں باپ کی خاطر اپنا علاج کروا کر نشہ چھوڑے گی اور پھر سے ایک اچھی زندگی کی شروعات کرے گی اس لیے اس نے بحالی مرکز جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

بحالی مرکز میں دو ماہ تک مسلسل علاج ہونے کے بعد اسماء نے آخر کار نشے کی لت کو شکست دے دی اور اب وہ پہلے کی طرح ایک نارمل اور ذمہ دار خاتون ہے جسے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے اور وہ ان کی تربیت میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھنا چاہتی۔

اسماء کی خواہش ہے کہ اگر اسے تھوڑی بہت سپورٹ مل جائے تو وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے گی اور انہیں کامیاب انسان بنائے گی۔

سماء سے گفتگو کے دوران ماہر نفسیات حنا زبیر کا کہنا تھا کہ عورتیں عموماً نشے کی جانب اس صورت میں راغب ہوتی ہیں جب ان کا شوہر بھی نشہ کرتا ہو اور پھر انہیں بھی وہ لت پڑجاتی ہے۔

سوات کے مذکورہ بحالی مرکز ميں 100 سے زائد افراد زیرعلاج ہیں جن میں بیشتر طلبہ اور بچے ہیں۔ مرکز میں ذہن سازی کےعلاوہ لوگوں کو الیکٹرک ٹیلرنگ اور پینٹنگ کے گر بھی سکھائے جاتے ہیں جبکہ کھیل کے میدان میں بھی وہ اپنا لوہا منواتے ہیں۔

طلبہ میں نشے کی عادت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے حنا زبیر نے بتایا کہ کچھ طلبہ ذہنی طور پر چست رہنے کے لیے اور پڑھائی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کی خاطر نشہ کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ نشے کے ان کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ماہرين کہتے ہيں کہ لوگ وقتی سکون کی خاطر نشے کی طرف راغب ہوتے ہيں جو ان کی صحت کے لیے سراسر نقصان دہ ہے۔

WhatsApp

FaceBook

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں