سرگودھا میں دو خاکروبوں کی سیوریج لائن میں دم گھٹنے کے باعث ہلاکت، انتظامیہ پر حفاظتی اقدامات کے بغیر کام کروانے کا الزام thumbnail 9

سرگودھا میں دو خاکروبوں کی سیوریج لائن میں دم گھٹنے کے باعث ہلاکت، انتظامیہ پر حفاظتی اقدامات کے بغیر کام کروانے کا الزام

فیصل مسیح

،تصویر کا ذریعہAniqa

،تصویر کا کیپشن

’ فیصل مسیح نے پہلے کام پر جانے سے منع کیا مگر پھر ان کو کام کی دھمکیاں دیں گئیں تو وہ چلے گئے۔’

‘بچے پوچھتے ہیں ڈیڈی کب آئیں گے، جس دن فیصل کو کام پر بلایا گیا اس وقت دونوں میاں بیوی نے باہر جانے کا پروگرام بنایا تھا، ہم لوگوں کی قسمت میں باہر نکلنا کبھی کبھی ہی ہوتا تھا۔’

یہ کہنا ہے فیصل مسیح کی بھابھی انیکہ مسیح کا جو صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران ایک خاکروب کو بچاتے ہوئے ہلاک ہونے والے دو خاکروبوں میں سے ایک ہیں۔

رواں ماہ کے شروع میں سرگودھا کے لاری اڈا کے قریب شمس ہسپتال کے پاس سیوریج لائن کی صفائی کے لیے جانے والے تین خاکروبوں میں سے ایک، مائیکل جاوید کو سیوریج لائن کی صفائی کے دوران دم گھٹنے کے بعد بچاتے ہوئے ان کے دو ساتھی فیصل مسیح اور ندیم مسیح ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کی موت والے دن کی تفصیلات بتاتے ہوئے فیصل مسیح کی بھابھی انیکہ نے دعویٰ کیا کہ ‘جب فون آیا تو فیصل مسیح نے پہلے کام پر جانے سے منع کیا مگر پھر ان کو کام کی دھمکیاں دیں گئیں تو وہ چلے گئے۔’

وہ بتاتی ہیں کہ فیصل مسیح کے جاتے وقت ان کی اہلیہ نے پوچھا کہ وہ کپڑے بدل لیں تو فیصل مسیح نے دروازے سے نکلتے ہوئے جواب دیا تھا کہ ‘ہاں بدل لو پھر کبھی پروگرام بنائیں گے پتا نہیں اب کب کام ختم ہوگا۔’

اس واقعہ کا مقدمہ سرگودھا کے مقامی پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ لاری اڈا کے قریب شمس ہسپتال کے قریب سیوریج لائن کی صفائی کے لیے مائیکل جاوید کو بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے مین ہول میں اتار دیا گیا تھا اور ان دونوں کی موت بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہوئی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سیوریج لائن میں گیس بھرنے کے باعث مائیکل جاوید کی طبعیت بگڑنے لگی اور انھوں نے دم گھٹنے پر مدد کے لیے شور شرابہ کیا تو ان کے دو ساتھی ندیم مسیح اور فیصل مسیح کو بھی بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے مین ہول میں اتار دیا گیا۔ ان دونوں نے مائیکل جاوید کو تو مدد فراہم کردی مگر خود باہر نہ نکل سکے اور ان کی لاشوں کو صبح چار بجے مقامی شخص کی مدد سے سیوریج لائن سے باہر نکالا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہfaisal

،تصویر کا کیپشن

ندیم مسیح کی اہلیہ کے مطابق ندیم سے کہا گیا کہ اگر وہ فوری نہ پہنچے تو آئندہ انھیں کام پر نہیں رکھا جائے گا۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

واقعہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پیش آیا تھا۔ جس میں سرگودھا میٹرو پولیٹین کے تین اہلکاروں مائیکل جاوید، ندیم مسیح اور فیصل مسیح کو اتوار کی رات سرگودھا لاری اڈا کے قریب شمس ہسپتال کے پاس سیوریج کی صفائی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

ایک عینی شاید کے مطابق رات تقریباً دس بجے میونسپل کمیٹی کے سپروائزر نے مائیکل جاوید سے سیوریج لائن میں اترنے کو کہا تو مائیکل جاوید تھوڑے سے تردد کے بعد گٹر میں اترگئے تھے۔

،ویڈیو کیپشن

سیورمین کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟

عینی شاہد کے مطابق سیوریج لائن میں اترنے کے چند منٹ بعد مائیکل جاوید نے دم گھٹنے کے باعث شور شرابہ کیا جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو اور چند ہی لمحے بعد جب سوریج لائن میں کوئی ہل جل نہ ہوئی تو ان کے ساتھیوں ندیم مسیح اور فیصل مسیح نے مائیکل کو آواز دی اور جواب نہ ملنے پر وہ سمجھ گئے کہ مائیکل جاوید مشکل میں ہیں۔ اس پر ندیم مسیح اور فیصل مسیح بنا کسی حفاظتی اقدامات کے گٹر لائن میں اتر گئے تھے۔

عینی شاید کے مطابق دونوں نے مل کر بے ہوش مائیکل جاوید کو تو سیوریج لائن سے نکال لیا مگر خود اوپر نہ آسکے۔

‘میں نے بہت منتیں کی مگر کوئی سننے کو تیار نہیں تھا’

فیصل مسیح کی بھابھی انیکہ مسیح کا کہنا تھا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع رات بارہ بجے ملی جس پر وہ لوگ موقع پر پہنچے تو وہاں پر کوئی امدادی کارروائی نہیں کر رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس اور ریسیکو اہلکار صرف لوگوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔’

وہ بتاتی ہیں کہ ‘مجھے اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ میرا دیور اور اس کا ساتھی اتنی دیر بعد زندہ نہیں بچیں ہوں گے۔ میں نے بہت شور شرابہ کیا۔ ہر ایک کی منتیں کیں کہ ہمیں ان کی لاشیں ہی نکال دو مگر کوئی بھی سننے کو تیار نہیں تھا۔’

،تصویر کا ذریعہAniqa

،تصویر کا کیپشن

فیصل مسیح کی بھابھی کے بقول ‘پولیس اور ریسیکو اہلکار صرف لوگوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔’

واقعہ کے ایک اور عینی شاید اور ہلاک ہونے والے ندیم مسیح کے بھانجے فیصل مسیح کے مطابق دونوں خاکروبوں کی لاشیں کئی گھنٹے تک سیوریج لائن میں پڑی رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ اگر بروقت امدادی کارروائی شروع ہوتی اور ان کے پاس مناسب حفاظتی اقدامات ہوتے تو ان کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔’

فیصل مسیح کا کہنا ہے کہ انھیں رات بارہ بجے ان کی ممانی مریم مسیح نے فون کرکے واقعے کی اطلاع دی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ ریسیکو اور پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں جبکہ ندیم مسیح اور فیصل مسیح کی لاشیں گٹر میں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ریسیکو 1122 کے ایک اہلکار نے تمام حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے سیوریج لائن میں اترنے کی کوشش کی مگر وہ گیس کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے واپس باہر آ گئے۔

ندیم مسیح کے بھانجے فیصل کا کہنا تھا کہ وہاں سب موجود تھے لیکن ان کی لاشوں کو نکالنے کے لیے کوئی امدادی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔ جس پر انھوں نے لوگوں کو اکھٹا کیا اور احتجاج شروع کردیا جو کافی دیر تک جاری رہا اور اس دوران میونسپل کمیٹی کے اہکار بھی غائب ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ندیم مسیح اور فیصل مسیح کی لاشوں کو اپنی مدد آپ کے تحت سوریج لائن سے نکالا گیا جس کے لیے ان کی برادری کے شہباز مسیح نے مدد کی اور سیوریج لائن میں اتر کر دونوں کی لاشوں کو اوپر پہنچایا۔

انتظامیہ کا موقف کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہfaisal

،تصویر کا کیپشن

ندیم مسیح کے بھانجے فیصل مسیح کا کہنا ہے کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ ریسیکو اور پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں جبکہ ندیم مسیح اور فیصل مسیح کی لاشیں گٹر میں ہیں۔

چیف ایگزیکٹو آفسیر میٹرو پولیٹن سرگودھا خالق داد گاڑا کا دعوی تھا کہ رات کے وقت کام کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ ایس او پی کے تحت کہا جاتا ہے کہ رات کے وقت لائن میں پانی کم ہوتا ہے اس لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ رات کے وقت کام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کام کے وقت تمام تر حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حفاظتی اقدامات نہیں ہوئے تھے۔

ان کے مطابق پہلے ایک خاکروب اندر گیا تھا اس کی حالت خراب ہوئی تو اس کو بچانے کے لیے دو مزید کو سیوریج لائن میں جانا پڑا۔

خالق داد گاڑا کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد سپروائزر سمیت متعلقہ تینوں اہلکاروں کو معطل کردیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔

کمشنر سرگودھا نے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمنشر ملک آصف کر رہے تھے۔ ملک آصف کا کہنا ہے کہ انھوں نے انکوائری رپورٹ مرتب کرکے احکام کو ارسال کردی ہے۔ انھیں اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اس انکوائری اور سارے واقعہ پر کوئی بات کریں۔

‘ندیم کام پر نہیں جانا چاہتے تھے’

ندیم مسیح کی اہلیہ مریم ندیم کا کہنا تھا کہ اتوار کا دن تھا۔ ندیم اس روز بھی دن کو ڈیوٹی کرکے واپس آئے تھے۔ شام کو جب گھر پہنچے تو انھیں کال آئی کہ سیوریج لائن پر کام کرنا ہے۔ جس پر ندیم نے درخواست کی کہ وہ بہت تھکے ہوئے ہیں۔ ان کو اس وقت نہ بلایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہfaisal

،تصویر کا کیپشن

مریم کے مطابق ندیم میٹروپولیٹن میں پکے ملازم نہیں تھے بلکہ دیہاڑی دار تھے۔

مریم کے مطابق ندیم کی یہ درخواست قبول نہیں کی گئی کیونکہ وہ میٹروپولیٹن میں پکے ملازم نہیں تھے بلکہ دیہاڑی دار تھے۔

ندیم مسیح کی اہلیہ مریم کے مطابق ندیم سے کہا گیا کہ اگر وہ فوری نہ پہنچے تو آئندہ انھیں کام پر نہیں رکھا جائے گا، جس پر انھیں مجبوراً جانا پڑا۔

مریم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے چھ بچے ہیں۔ میں بھی صفائی کا کام کرتی ہوں۔ ہم دونوں نے مل کر فیصلہ کیا ہوا تھا کہ بھلے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ ہمیں جتنی بھی محنت کرنا پڑی کریں گے۔ اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے بڑے بیٹے کو صفائی کے کام سے دور رکھا اور وہ موٹرسائیکلوں کا کام سیکھ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے شادی کو 25 سال ہو چکے ہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ کئی برسوں سے ہمارے درمیاں اپنے بچوں کے مستقبل کے علاوہ کوئی بات ہوئی ہو۔ وہ زندہ رہتے تو شاید ہم دونوں مل کر اپنے بچوں کے لیے کچھ کر لیتے مگر اب کیا بنے گا اس کا کچھ پتہ نہیں۔‘

ندیم مسیح کے بھانجے فیصل مسیح کا کہنا تھا کہ ندیم مسیح کو دفتر اور علاقے میں لوگ ڈان کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے کام پر بہت محنت کرتے تھے۔ جب بھی کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوتا تو سب کہتے کہ ڈان کو بلاؤ اور ڈان چند پیسوں کے لیے اپنی جان پر کھیل کر کام کرتے تھے۔

خاکروبوں کے لیے کوئی سہولتیں نہیں

سرگودھا کے سیاسی و سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن شوکت گورائیہ کے مطابق وہ اس واقعہ کے بعد متاثرین کے گھر گئے اور ’ان افراد کے اہلخانہ کی حالت زار خطرناک حد تک قابل رحم ہے۔ نہ تو رہائش کے قابل رہائش گاہیں ہیں اور نہ ہی دیگر سہولتیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں کئی کئی خاندان رہائش پزیر ہیں۔ مرنے والے دونوں افراد اپنے خاندانوں کے لیے روزی روٹی کا وسیلہ تھے۔ اب اگر وہ ہی نہیں رہے تو معلوم نہیں ان کا کیا بنے گا۔

شوکت گورائیہ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی بھی حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے ایسے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کو نہ صرف تربیت فراہم کرنا چاہیے بلکہ ان کو جدید ترین حفاظتی آلات سے لیس کیا جائے تاکہ یہ اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے کسی حادثہ کا شکار نہ ہوں۔

برٹش ایشین کرسچن ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں خاکروبوں کی تعداد کم از کم دس لاکھ ہوگئی۔ ان کا کبھی ڈیٹا مرتب نہیں کیا گیا تاکہ پتا چل سکے کہ پاکستان میں کتنے خاکروب خدمات انجام دے رہیں۔

تنظیم کے مطابق ان میں اکثریت پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے کام کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تنظیم کے مطابق ملک میں اکثر خاکروبوں کی ملازمتیں یومیہ اجرت کی بنیاد پر ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کی ملازمتوں کو کوئی تحفظ نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ملازمت کا کوئی ڈھانچہ موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں