پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ چند ماہ سے مسلسل منفی رجحان کیوں دیکھا جا رہا ہے؟ thumbnail 20

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ چند ماہ سے مسلسل منفی رجحان کیوں دیکھا جا رہا ہے؟

کراچی — 

ایک جانب معیشت کے خراب اشاریے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے گزشتہ چند ماہ سے غیر یقینی حالات پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

ان دونوں وجوہات کے باعث ستمبر کے آخر میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ (پی ایس ایکس) کو خطے ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی ان تین اسٹاک مارکیٹس کے ساتھ رکھا جا رہا ہے جنہوں نے اس سال اب تک بدترین کارکردگی رہی ہے۔ ان میں ہانگ کانگ اور برازیل کی اسٹاک مارکیٹس بھی شامل ہیں۔

معاشی امور پر نظر رکھنے والے امریکہ کے ذرائع ابلاغ کے ادارے ’بلوم برگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برازیل کی مارکیٹ کا حجم 19 فی صد، ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ کا 15 فی صد جب کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا حجم پاکستانی روپوں میں پانچ فی صد جب کہ امریکی ڈالرز میں 12 فی صد کم ہوا ہے۔

سول ملٹری تعلقات پر قیاس آرائیوں کے اثرات

اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ رہی سہی کثر پاکستان میں حالیہ چند دنوں میں فوج میں نئی تقرریوں سے متعلق سول ملٹری تعلقات پر جاری قیاس آرائیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی نے نکال دی ہے۔

آٹھ اکتوبر کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 109 پوائنٹس، 11 اکتوبر کو 648 پوائنٹس اور 13 اکتوبر کو ایک بار پھر 662 پوائنس کی کمی دیکھی گئی۔ جب کہ 14 جون کو مارکیٹ انڈیکس 48 ہزار 726 تک گیا تھا۔

گزشتہ چار ماہ میں اسٹاک مارکیٹ میں پانچ ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے۔

معاشی ماہر اور اسپیکٹرم سیکوریٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ عبد العظیم کا کہنا ہے کہ خطے کی دیگر مارکیٹس کا اگر پی ایس ایکس سے ویلیوایشن کا موازنہ کیا جائے تو وہ کافی کم ہو چکی ہے۔ البتہ اس کے باوجود مقامی اور بین الاقوامی انویسٹرز یہاں خریداری میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ کیوں کہ ملک میں اچانک سیاسی غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔

شدید مندی کے باعث امریکہ کی فنانس کمپنی ’ایم ایس سی آئی‘ نے، جو دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس کی درجہ بندی کرتی ہے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو ایمرجنگ مارکیٹس کی فہرست سے نکال کر فرنٹئیر مارکیٹس کے گروپ میں شامل کیا ہے۔

عبد العظیم کا کہنا ہے کہ فرنٹئیر انڈیکس میں شامل مارکیٹس میں زیادہ تر حصص بیچنے ہی کا رحجان ہے اور امید یہ کی جا رہی ہے کہ نئے سال کی آمد پر ہی ان مارکیٹس میں حصص کی خریداری ہوگی۔

اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ کار کیوں بھاگ رہے ہیں؟

اسٹاک ایکسچینج کو جانچنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ چند ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں لگ بھگ 10 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ گزشتہ ماہ میں اس میں ساڑھے چار کروڑ ڈالرز اور رواں ماہ بھی اب تک دو کروڑ 90 لاکھ ڈالرز سے زائد کی بیرونی سرمایہ کاری کا آؤٹ فلو ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ ایک سال سے چل رہا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس کی ایک اہم وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آنا ہے۔ جب کہ اس سے سب سے زیادہ متاثر مقامی سرمایہ کار بھی ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق کرنسی کی قیمت میں گراوٹ کے اثرات مہنگائی، شرح سود اور خام مال کی قیمتیں بڑھنے پر بھی پڑیں گے۔

اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ دنیا بھر میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن اور فریٹ کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

شرح سود میں مزید اضافے کا امکان

عبد العظیم کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود مزید بڑھائے گا۔ کیوں کہ اس وقت ملک میں شرح سود 7.25 فی صد ہے اور اگر شرح سود کو عمومی سطح پر لایا جاتا ہے تو یہ مہنگائی کی موجودہ شرح نو فی صد سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ اور ایسا کیا گیا تو یقینی طور پر اس کا اثر منفی طور پر معاشی نمو پر پڑے گا۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کیا امکانات

بعض معاشی ماہرین کے خیال میں اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط دے دیتا ہے اور اس بارے میں امریکہ میں جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں بہت مثبت ثابت ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالرز اور ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے بھی ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز ملنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے عوام کو فیصلوں سے آگہی دینا ہو گی اور مذاکرات کے نتائج کو شفاف انداز میں بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اصل صورتِ حال کا علم ہو سکے۔

تاہم عبدالعظیم کے خیال میں آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ حکومتی محاصل کے ہدف کو بڑھانا چاہتا ہے جس کے لیے گردشی قرضوں کا خاتمہ اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف 68 کھرب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس وقت یہ ہدف حاصل ہونا مشکل لگ رہا ہے۔

دوسری جانب ابا علی حبیب سیکورٹیز کے ہیڈ آف ایکویٹی سلمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ انویسٹرز پریشان ہیں کہ اگر آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ڈالر کی قیمت کہاں جائے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ، جس کا حال پہلے ہی برا ہے، اس کا مزید کیا حشر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم سے بہتر ڈیل، افغانستان کی صورتِ حال میں بہتری اور امریکہ سے سرد تعلقات میں گرم جوشی آنے کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں کچھ کمی آنے سے مارکیٹ کے حالات بہتر ہونے کی امید ضرور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں