سیکيورٹی حالات بہتر ہونے پر لڑکياں اسکول جاسکيں گی، طالبان thumbnail 15

سیکيورٹی حالات بہتر ہونے پر لڑکياں اسکول جاسکيں گی، طالبان

طالبان کوتسلیم نہ کیا تویہ ساری دنیا کیلئے مسئلہ بنےگا

طالبان کے ترجمان ذبيح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ حالات معمول پر آجائيں اور ماحول محفوظ ہوجائے تو پھر سيکنڈری اسکول طالبات تدريس کا سلسلہ شروع کرسکتی ہيں۔

جرمن جريدے اسپيجل کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان طالبان ذبيح اللہ مجاہد نے کہا کہ ابتدا ميں ہی رياست کے انتظامات بہتر بنانا چاہتے ہيں تاکہ آنے والے دنوں ميں اسے سہولت سے سب کے ليے قابل قبول بنايا جا سکے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ ہماری کابينہ ميں کئی نسلی گروہوں کے لوگ شامل کيے گئے ہيں۔ تاہم گزشتہ سياسی نظام کے بھگوڑوں کے ليے اب کوئی گنجائش نہيں ہے، وہ اس قدر کرپٹ اور بدنام ہيں کہ طالبان کی ساکھ خراب کر ديں گے۔

ايک سوال پر ذبيح اللہ مجاہد نے بتايا کہ لوگ افغانستان دو وجوہات پر چھوڑ رہے ہيں۔ پہلے امريکا نے ابتری پھيلائی اور پھرلوگوں کو ملک چھوڑنے پر اکسايا کيونکہ لوگ امريکا يورپ کو جنت سمجھتے ہيں اس ليے انتشار پيدا ہوا جس سے بچنے کے ليے گرفتارياں کرنا پڑيں۔

انہوں نے کہا کہ جو بےقصور ہيں انہيں چھوڑ ديا جائے گا، ہم نے ايسے دشمنوں کو معاف کيا ہے جو 20سال سے ہمارا خون بہا رہے تھے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ امريکا، يورپ کی حکومتوں اور ورلڈ بينک سے مذاکرات کی ہرممکن کوشش کر رہے ہيں تاکہ ہمارے اثاثے ديے جائيں۔ يہ افغانستان کا پيسہ ہے۔

ذبيح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہيں دنيا افغانستان کی تعمير نو ميں ہماری مدد کرے اور اگر دنيا نے طالبان کو تسليم نہ کيا تو يہ افغانستان کے ليے ہی نہيں ساری دنيا کے ليے مسئلہ بنے گا۔

WhatsApp

FaceBook

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں