وسطی ایشیا، قفقاز اور افغانستان میں ترکی کا ستارہ بلندی کی جانب مائل ہے، امریکی ماہرِ سیاسی علوم thumbnail 8

وسطی ایشیا، قفقاز اور افغانستان میں ترکی کا ستارہ بلندی کی جانب مائل ہے، امریکی ماہرِ سیاسی علوم

ترکی اور امریکہ کو یکجا کرنے والے عناصر  ان کے مابین دوری لانے  والے عوامل سے کہیں زیادہ ہیں

ڈوگلس اینڈ سارہ ایلی سن خارجہ پالیسی مرکز کے ڈائریکٹر  امریکی سیاسی علوم  کے ماہر لیوک کوفے  کا کہنا  ہے کہ وسطی ایشیا، قفقاز اور افغانستان میں  ترکی  کے اثر ِ رسوخ میں اضافہ دیکھنے  میں آرہا ہے۔

لیوک کوفے نے اقوام متحدہ  کی 76 ویں جنرل اسمبلی کے  دائرہ کار میں صدارتی محکمہ اطلاعات    کو اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 ۔ 6 برسوں سے وسطی ایشیا، قفقاز اور افغانستان میں  ترکی کا ستارہ  بلند ہوتا جا رہا ہے، باہمی تعلقات میں  موجودہ مشکلات کے باوجود  ترکی    کی اتحادی خصوصیات  اور نیٹو میں اس کا مقام  امریکہ کے لیے بڑا کارآمد ثابت ہو اہے۔

انہوں نے  ترکی اور امریکہ کو یکجا کرنے والے عناصر  ان کے مابین دوری لانے  والے عوامل سے کہیں زیادہ ہونے پر زور دیتے ہوئے ترکی کے افغانستان میں  ممکنہ کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جب افغانستان کا معاملہ زیر ِ بحث آتا ہے تو ترکی افغانستان میں امریکہ  کے لیے  زیادہ سے زیادہ کردار سنبھال سکتا ہے، یہ طالبان کے برخلاف امریکی  مفادات    میں تعاون کر سکتا ہے  یا پھر  امریکی خواہشات کو    آگے بڑھانے میں معمولی سطح کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر  کسی کو یرغمال بنائے جانے  یا پھر   انسانی امداد کی ترسیل کے معاملے  میں  ترکی طالبان  کے ساتھ  رابطہ قائم کرتے ہوئے مسائل کے حل میں قیادت کا کام سنبھال سکتا ہے۔  افغانستان میں چاہے کوئی بھی  فریق کیوں نہ ہو ترک پرچم ان کے لیے ایک غیر جانبدار  عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں