شہریار آفریدی کی امریکی ائیرپورٹ پر "برہنہ تصاویر"، حقیقت کیا ہے؟ thumbnail 15

شہریار آفریدی کی امریکی ائیرپورٹ پر “برہنہ تصاویر”، حقیقت کیا ہے؟

دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کو سکریننگ کے لیے نیویارک کے JFK ایئرپورٹ پر مختصر وقت کے لیے روکا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

شہریار آفریدی 15 ستمبر کو سہ پہر 3:15 بجے پرواز QR-0701 (قطر ایئر لائن) کے ذریعے نیویارک پہنچے تھے۔

ڈان نیوز کے مطابق اتوار کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پہلی مرتبہ آنے والے مسافر کے طور پر شہریار آفریدی کو مختصر وقت کے لیے سیکنڈری سکریننگ کے لیے روکا گیا تھا اور سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے کسی کی مانگی گئی یا دی گئی ضمانت کے بغیر معمول کے مطابق کلیئر قرار دے دیا گیا۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی پوسٹس اور نیوز رپورٹس حقائق کے منافی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔ ساتھ ہی فوٹو شاپ شدہ تصاویر بھی شئیر کی گئیں جن میں شہریار آفریدی کو برہنہ حالت میں ائیرپورٹ پر دکھایا گیا ہے۔

معروف پاکستانی صحافی سلیم صافی نے لکھا کہ ’کچھ جعلسازوں کی طرف شہریارآفریدی کی فوٹو شاپ تصویر ری ٹویٹ کرنے پر معذرت خواہ ہوں البتہ اس بات کی خوشی ہے کہ رانا ثنا کی طرح امریکیوں نے ان کے ہاں سے دس کلو ہیروئین برآمد نہیں کرائی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں