شہد کی مکھیوں نے 63 نایاب پینگوئن مار ڈالے thumbnail 6

شہد کی مکھیوں نے 63 نایاب پینگوئن مار ڈالے

شہد کی مکھیوں کے ایک غول نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے باہر ایک ساحل پر معدومی کے خطرے سے دوچار 63 افریقی پینگوئن مار دیے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ساحلی پرندوں کے تحفظ کے لیے جنوبی افریقی فاؤنڈیشن سے وابستہ کلینکل ویٹنیرین ڈیوڈ رابرٹس نے اتوار کہا کہ ٹیسٹ کے بعد ہمیں پینگوئن کی آنکھوں کے گرد مکھی کے ڈنک ملے۔

’یہ ایک بہت ہی نایاب واقعہ ہے اور ایسا اکثر ہونے کی توقع نہیں کی جاتی۔‘

انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر مردہ شہد کی مکھیاں بھی موجود تھیں۔

یہ پینگوئن جو جمعہ کو مردہ حالت میں پائے گئے، کیپ ٹاؤن کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے سیمن ٹاؤن کی ایک کالونی سے تھے۔

یہ علاقہ ایک نیشنل پارک ہے اور کیپ ٹاؤن کی شہد کی مکھیاں وہاں کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔

رابرٹس نے کہا کہ ’پینگوئنز کو اس طرح موت واقع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ پہلے ہی ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ان کا شمار ان انواع میں ہوتا ہے جنہیں بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

جنوبی افریقی نیشنل پارکس کے مطابق پرندوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے فاؤنڈیشن میں لے جایا گیا اور نمونے بیماری اور زہر کے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

پارکس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی پرندے پر کوئی بیرونی جسمانی چوٹ نہیں پائی گئی۔‘

پوسٹ مارٹم سے پتہ چلتا ہے کہ تمام پینگوئنوں میں مکھی کے متعدد ڈنک تھے۔

افریقی پینگوئن جو جنوبی افریقہ کے ساحل اور جزیروں میں رہتے ہیں، بین الاقوامی یونین برائے تحفظ برائے فطرت کی ریڈلسٹ میں شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں معدوم ہونے کے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں