موسمیاتی تبدیلی، 2050 تک 21 کروڑ افراد ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں، عالمی بینک thumbnail 6

موسمیاتی تبدیلی، 2050 تک 21 کروڑ افراد ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں، عالمی بینک

سبز ، جامع اور لچکدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات سے نقل مکانی کے پیمانے کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے
 فوٹو: فائل

سبز ، جامع اور لچکدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات سے نقل مکانی کے پیمانے کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے
فوٹو: فائل

 واشنگٹن: موسمیاتی تبدیلی سے 2050 تک دنیا بھر میں 21 کروڑ 60 لاکھ افراد کو اپنے ممالک کے اندر نقل مکانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اندرونی نقل مکانی کا ایک طاقتور محرک ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے ذریعہ آمدن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انتہائی غیر محفوظ مقامات پر رہائش کی اہلیت کم ہوتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اندرونی منتقلی کے اہم مقامات 2030 کے اوائل میں ابھر سکتے ہیں اور 2050 تک  پھیلتے اور بڑھتے رہیں گے۔

رپورٹ کے مطابق 2050 تک موسمیاتی تبدیلی کے باعث ذیلی صحارا افریقہ میں 8 کروڑ 60 لاکھ ، مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل میں 4 کروڑ 90 لاکھ، جنوبی ایشیا میں 4 کروڑ ،شمالی افریقہ میں 1 کروڑ 90 لاکھ، لاطینی امریکا میں 1 کروڑ 70 لاکھ اور مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں 50 لاکھ  مقامی تارکین وطن سامنے آسکتے ہیں۔

عالمی بینک میں پائیدار ترقی کے نائب صدر جورگن ووجیل نے کہا کہ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسانی نقصانات کی ایک واضح یاد دہانی ہے، خاص طور پر دنیا کے غریب ترین افراد پر جو اس کے اسباب میں کم سے کم حصہ ڈال رہے ہیں۔

ووجیل نے کہا یہ واضح طور پر ممالک کیلیے  کچھ ایسے اہم عوامل کو حل کرنے کا راستہ بتاتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی نقل مکانی کا باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی اخراج کو کم کرنے اور سبز، جامع اور لچکدار ترقی کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی نقل مکانی کے پیمانے کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں