پڑوسی ممالک کو افغان عوام کیساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے:  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی thumbnail 9

پڑوسی ممالک کو افغان عوام کیساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

انہوں نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے آن لائن وزارتی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسانی بحران کو روک لیا گیا اور معاشی استحکام کو یقینی بنا لیا گیا تو امن کی بنیاد مستحکم ہو سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی یلغار سے بچا جا سکتا ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں اقتصادی بدحالی اور انسانی بحران کو روکنے کیلئے عالمی برادری کے روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے آن لائن وزارتی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسانی بحران کو روک لیا گیا اور معاشی استحکام کو یقینی بنا لیا گیا تو امن کی بنیاد مستحکم ہو سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی یلغار سے بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سفارتی اور عالمی موجودگی کی تجدید سے افغان عوام کو تعاون کا نیا یقین ملے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کی قیادت میں انسانی امداد کی فوری فراہمی سے اعتماد سازی کے عمل کو نئی تقویت ملے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ نئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پرانی سوچ کو ترک کر کے نیا تناظر اپنایا جائے اور ایک حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق کے مطابق انداز فکر اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے افغانستان، خطے اور پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کو افغان عوام اور افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کے لئے مکمل حمایت اور یکجہتی کی یقین دہانی کرانی چاہئے۔شاہ محمود قریشی نے ہمسایہ ممالک کے اہم پلیٹ فام کو ایک باقاعدہ مشاورتی طریقہ کار میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی اور مستقبل میں افغانستان کو اس میں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی شمولیت سے ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے اس فورم کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں