لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے سے سرکاری اراضی اور جنگلات پر قبضہ کی روک تھام ہو گی: عمران خان thumbnail 11

لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے سے سرکاری اراضی اور جنگلات پر قبضہ کی روک تھام ہو گی: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو اسلام آباد لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اورکیڈسٹریل میپنگ کا افتتاح کیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے سے سرکاری اراضی اور جنگلات پر قبضہ کی روک تھام ہو گی ، قبضہ گروپوں کو یہی ٹیکنالوجی شکست دے سکتی ہے ، ڈیجیٹلائزیشن سے لوگوں کو تحفظ حاصل ہو گا ، شفافیت کے ساتھ ان کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی، جائیدادوں پر ناجائز قبضے سے سب سے زیادہ پاکستانی تارکین وطن متاثر ہوتے ہیں ،لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے ہر کوئی اپنی جائیداد کا ریکارڈ دیکھ سکے گا اور آن لائن ٹرانسفر ممکن ہو سکے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو اسلام آباد لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اورکیڈسٹریل میپنگ کا افتتاح کیا۔

وزیراعظم کے وژن کے مطابق پرانے اراضی نظام کو جدید ڈیجیٹل آن لائن نظام میں تبدیل کرنے کے لیے کیڈسٹریل میپنگ کے منصوبے کے تحت سروے آف پاکستان نے جیوگرافک انفارمیشن سسٹم( جی آئی ایس) کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی جدید ترین ڈیجیٹل نقشہ سازی کاعمل مکمل کیاہے۔

سروے آف پاکستان کو کیڈسٹریل میپنگ کا کام سونپا گیا جس کا بنیادی مقصدنقشہ سازی ومساحت کے موجودہ نظام کو جدید اور ڈیجیٹل فارمیٹ میں تبدیل کرنا ہے۔اس منصوبہ کے پہلے مرحلہ میں 3 بڑے شہروں کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ملک کی سرکاری اراضی کاڈیجیٹل ڈیٹا تیارکرنا شامل ہے،ڈیجیٹیلائزیشن کے عمل کا مقصد پٹوار کے نظام میں اصلاحات لانا، انسانی عمل دخل کو کم سے کم کرنا اور اراضی ریکارڈ کے پورےنظام کو شفاف بنانا ہے۔

پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے چییرمین جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر نے اس اقدام کی تفصیلات بارے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام سے منصوبہ بندی بہتر انداز میں ہوسکے گی اور سرکاری اراضی پر قبضہ نہیں کرسکے گا،ہر شہری کی اپنی جائیداد تک رسائی ہوگی،پہلی بار لینڈ ریکارڈ کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے منسلک کیاجارہا ہے،اس اقدام سے ریکارڈ کی تبدیلی ناممکن ہوگی۔

وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور سروے آف پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو بروقت مکمل کیا ، اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے خوف تھا کہ یہ مکمل نہیں ہو گا کیونکہ جن لوگوں کے مفادات پرانے سسٹم سے جڑے تھے وہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے جبکہ قبضہ گروپ بھی نہیں چاہتے تھے کہ اس قسم کا اقدام حکومت اٹھائے ، ہم اس اقدام کے راستے میں حائل رکاوٹوں سے بخوبی آگاہ ہیں ۔

وزیراعظم نے کہاکہ صرف اسلام آباد میں 300ارب روپے مالیت کی اراضی پر یا تو قبضہ تھا یا وہ استعمال میں نہیں لائی گئی ، محکمہ جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ اراضی پر قبضہ تھا ۔

انہوں نے کہاکہ کمپیوٹرائزڈ نظام سے شفافیت آئے گی ، شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے پیسہ بنایا اور وہ طاقتور ہو گئے جبکہ کمزور لوگوں پر ظلم ہوتا ہے ، پاکستانی تارکین وطن ہمارا اثاثہ ہیں وہ ملک میں سرمایہ کاری کر کے کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے سرمایہ کاری کے لئے ماحول بنانا ضروری ہے ، اس کی ایک بڑی وجہ قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے جہاں قانون کی بالادستی ہوتی ہے وہاں سرمایہ کاری بھی ہوتی ہے اور جہاں انصاف ہوتا ہے وہاں خوشحالی آتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ ایک بڑا قدم ہے اس سے اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بھی بڑے گا ، ان کا بڑا مسئلہ جائیدادوں پر ناجائز قبضہ ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں عدالتوں میں 50فیصد مقدمات جائیدادوں پر قبضوں کے ہیں ، پرانے لٹھا سسٹم میں تبدیلی آسان ہے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ آن لائن سسٹم سے اب پلاٹ کی ملکیت دیکھنا آسان ہو گا ، اسلام آباد ، لاہور اورکراچی میں یہ منصوبہ نومبر تک مکمل ہو گا جبکہ اس کے چھ ماہ بعد پورے پاکستان میں یہ سسٹم رائج ہو گا ، اس سے عام لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی ۔

وزیراعظم نے کہاکہ شہروں میں اراضی کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں ، قبضہ گروپ کو اگر کوئی چیز شکست دے سکتی ہے تو وہ یہ ٹیکنالوجی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ عالمی حدت سے پاکستان میں موسم کی تبدیلی کا شدید خطرہ ہے جبکہ آلودگی سے دریائی پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے ، ہم نے درخت کاٹ کر تباہی کی ، اب گزشتہ تین سال سے حکومت جنگلات لگا رہی ہے ، اس منصوبے سے اس میں بھی مدد ملے گی ۔

انہوں نے کہاکہ سرینگر ہائی وے پر جنگلات 45ایکڑ سے 113ایکڑ تک بڑھ گئے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اربوں روپے کی سرکاری اراضی اور جنگلات قابضین سے واگزار کرائے ہیں ،کیڈسٹریل میپنگ سے اس کی نگرانی ہو سکے گی ۔

انہوں نے کہاکہ اس منصوبے سے زیادہ خوشی اس لئے ہے کہ یہ عام پاکستانیوں کے لئے ہے ، اس سے لوگوں کو تحفظ ملے گا ، ان کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی اور اس سے شفافیت آئی گی ،لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے سے طاقتور لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے ،منصوبے سے جائیدادوں پر ناجائز قبضے کا خاتمہ ہو گا ،ملک میں شجر کاری مہم اور جنگلات کے کٹائو کی روک تھام میں کیڈسٹریل میپنگ سے مدد ملے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں