حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کا خواب پورا کر دیا ہے: صدر عارف علوی thumbnail 12

حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کا خواب پورا کر دیا ہے: صدر عارف علوی

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2020 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آن لائن اور پیشہ وارانہ تعلیم میں آسانیاں پیدا کرکے ہم نہ صرف اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں بلکہ مارکیٹ کی طلب و رسد کی ضروریات کے تناظر میں تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2020 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کا خواب پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے مزید اقداما ت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن تعلیمی معیار میں بہتری وقت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ نصابی مواد پر معیار کا انحصار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے، احساس پروگرام میں تعلیم کے فروغ کیلئے وظائف مختص کئے گئے ہیں ، حکومت میرٹ پر سکالرشپ دے رہی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی جانب سے بھی طلبا کو وظائف دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ، آن لائن تعلیمی نظام کو فروغ دے کر تعلیمی اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے کیونکہ اس طریقہ تدریس سے فزیکل سٹرکچر کا کم سے کم استعمال ہو گا جبکہ تعلیمی مواد بھی آن لائن دستیاب ہو گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ ورچوئل تعلیمی نظام دور جدید کی ضرورت ہے، ورچوئل یونیورسٹی کم تعلیمی اخراجات کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کےمطابق نصاب متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں انجینئرز، ڈاکٹرزاور پیشہ ور ماہرین ملازمتوں کی تلاش میں بیرون ملک جاتے تھے لیکن اب ملک میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان کے ہنرمند افراد ملک میں موجود مواقع سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں روزگار کےوسیع مواقع موجود ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ خطہ میں اعلیٰ تعلیم کے حوالہ سے پاکستان ابھی پیچھے ہے، پاکستان کی ترقی میں تعلیم کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور معیار کی بہتری میں نصابی مواد اور اساتذہ کا پڑھانے کا انداز انتہائی اہم ہے، اگر آپ کی بات میں وزن ہو تو لوگ اس پر یقین کرتے ہیں، انسانی تعلقات کی بنیاد بھی کمیونیکیشن پر ہے، اقوام اور خاندانوں میں بھی روابط میں کمیونیکیشن کا اہم کردار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں