ٹوکیو اولپکس 2020: جذبے کی اعلی مثالوں سے لے کر ایک غیر متوقع منگنی تک، ٹوکیو اولمپکس کے سب سے متاثر کن لمحات thumbnail 159

ٹوکیو اولپکس 2020: جذبے کی اعلی مثالوں سے لے کر ایک غیر متوقع منگنی تک، ٹوکیو اولمپکس کے سب سے متاثر کن لمحات

صفوان

،تصویر کا ذریعہReuters

ٹوکیو اولپکس کے دوران خواتین کے 1500 میٹر کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اچانک ایک سیاہ فام ایتھلیٹ کو ٹریک پر گرتے دیکھا گیا۔۔۔ لیکن قوّتِ ارادی کا کمال مظاہرہ کرتے ہوئے وہ دیکھتے ہیں دیکھتے اٹھ کھڑی ہوئیں اور نہ صرف دوبارہ دوڑنا شروع کر دیا بلکہ اس دوڑ میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کی۔

ہم جس ایتھلیٹ کی بات کر رہے ہیں ان کا نام ہے صفوان حسن۔۔۔ جنھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی اپنی کارکردگی سے متاثر کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے صفوان حسن کے گرنے والی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی نوجوان یہ دوڑ دیکھیں اور اس میں سے وہ اہم ترین سبق حاصل کریں جو کھیل نے مجھے سکھایا ہے کہ: ’آپ ہارتے تبھی ہیں جب آپ کوشش ترک کردیتے ہیں۔‘

نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والی صفوان حسن کا پناہ گزین سے لے کر دنیا کی عظیم ایتھلیٹ بننے کا سفر ایک حیران کن داستان ہے۔

ٹوکیو اولمپکس میں انھوں نے 1500 میٹر ریس میں کانسی اور پھر 5000 میٹر اور 10000 میٹر کی دوڑوں میں سونے کے تمغے جیت کر ثابت کیا کہ وہ حالیہ اور آج سے پہلے آنے والے ہر دور کی بہترین ایتھلیٹس میں سے ایک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حالیہ مقابلے پچھلے سارے اولمپکس سے ہر لحاظ سے مختلف رہے اور اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ کھیل کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہوئے ہیں۔

کووڈ 19 کے حفاظتی اقدامات کے باعث دو ہفتوں تک چلنے والے ان مقابلوں میں تماشائیوں کی کمی تو تھی ہی لیکن دلوں کو گرما دینے والے بہت سارے متاثر کن لمحات بھی تھے جس کا مطلب ہے کہ ان اولمپکس مقابلوں کو یاد رکھنے کی واحد وجہ کورونا وائرس کی پابندیاں ہی نہیں ہوں گی۔

خواتین کی سٹریٹ سکیٹ بورڈنگ نے پہلی مرتبہ ان کھیلوں میں شرکت کی اور فاتحین میں اکثر نوجوان لڑکیاں نظر آئیں۔

جاپان سے تعلق رکھنے والے مومیجی نشیہ نے طلائی تمغہ جیتا۔ 13 سال کی عمر میں وہ اب تک کی سب سے کم عمر گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

اس کے بعد برازیل سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ ریسا لیال بھی تھیں جنھوں نے چاندی کا میڈل حاصل کیا۔ اور 16 سالہ فونا ناکااما نے کانسی کا میڈل حاصل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن یہ صرف شروعات تھی، نوعمر کھلاڑیوں نے تیراکی، جمناسٹکس اور ڈائیونگ جیسے کھیلوں میں تمغے جیتنے کے علاوہ شائقین کو بھی حیران کردیا۔

چین کی 14 سالہ کوان ہونگچن نے بہترین تیراکی کرتے ہوئے تاریخی گولڈ میڈل جیتا۔

ایسی چالیں جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئیں

اس اولمپکس میں پہلی مرتبہ چار کھیل شامل کیے گئے: کراٹے، سکیٹ بورڈنگ، چڑھائی چڑھنا اور سرفنگ۔ کچھ مقابلوں میں مرد و خواتین کی اکھٹی ٹیموں نے بھی حصہ لیا جن میں سوئمنگ اور ٹریک اینڈ فیلڈ شامل ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس 2020 میں بی ایم ایکس فری سٹائل کو بھی شامل کیا گیا، اور کووڈ پابندیوں کے باوجود اسے دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ حجوم جمع ہوا۔

برطانیہ کی شارلٹ ورتھنگٹن نے اولمپکس میں ایک ایسی چال چلی جسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔۔۔ بی ایم ایکس گولڈ میڈل جیتنے کے لیے وہ پہلی مرتبہ 360 بیک فلپ پر اتریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

360 بیک فلپ – یا زک فلپ، کو اس کے خالق زیک شا کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، ورتھنگٹن کو ججز کی جانب سے 97.50 سکور دیا گیا، جو مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں سب سے زیادہ سکور تھا۔

مشترکہ گولڈ میڈل

ایک ناقابل یقین اولمپک ہائی جمپ فائنل کا اختتام قطر کے معتز عیسا برشم اور اٹلی کے گیان مارکو تمبری نے سونے کے تمغے جیت کر کیا۔

دو گھنٹے کے تھکا دینے والے مقابلے کے بعد، جوڑی کو الگ نہیں کیا جا سکا، انھوں نے 2.37 میٹر کا بہترین کلیئرنس ریکارڈ حاصل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھلاڑیوں کو جمپ آف میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا تھا۔

لیکن بہترین کھلاڑیوں کا برتاؤ دکھاتے ہوئے انھوں نے ٹائٹل شئیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس سے زبردست جشن منایا گیا۔ انھوں نے 1912 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلے مشترکہ اولمپک پوڈیم کے ساتھ تاریخ رقم کی۔

سپورٹس مین شپ کے مظاہرے

جب امریکا کے ایتھلیٹ یسعیا جویٹ اور بوٹسوانا کے نائجل اموس 800 میٹر کی دوڑ کے دوران گرے تو انھوں نے ایک دوسرے کی مدد کی، اپنے بازو ایک دوسرے کے گرد ڈالے اور ایک دوسرے کے ساتھ اختتامی لکیر تک پہنچے۔

،تصویر کا ذریعہANTONIN THUILLIER

وہ فاتح سے 54 سیکنڈ پیچھے تھے۔ لیکن اس موقع پر جیسا کہ انھوں نے ریس کے بعد پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ’وقت سے کوئی فرق نہیں پڑا۔‘

’جلاوطن کھلاڑی‘ جس نے طلائی تمغہ حاصل کر کے تاریخ رقم کی

ہیڈلین دیاز نے خواتین کے 55 کلوگرام ویٹ لفٹنگ ایونٹ جیتنے کے بعد کسی بھی کھیل میں فلپائن کا پہلا اولمپک طلائی تمغہ حاصل کرنے کی تاریخ رقم کی۔

دیاز وبائی امراض کی وجہ سے ملائیشیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

زمبونگا کے قریب ایک غریب گاؤں میں ٹرائی سائیکل ڈرائیور کے گھر پیدا ہوانے والی دیاز دسمبر 2019 سے اپنے خاندان سے نہیں ملیں ہیں۔

انھوں نے میڈل حاصل کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا ’میں دو سال سے ملائیشیا میں ہوں اور اب زندگی سے لطف اندوز ہونے کی منتظر ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

برمودا، جس کی آبادی صرف 63000 ہے، ٹوکیو میں اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی کم از کم آبادی والی قوم یا علاقہ بن گیا ہے۔ برمودا کی فلورا ڈفی نے خواتین کی ٹرائاتھلون جیتی۔

خفیہ ہتھیار بُننا؟

برطانوی غوطہ خور ٹام ڈیلی نے 10 میٹر پلیٹ فارم میں میٹی لی کے ساتھ مل کر اپنا پہلا اولمپک طلائی تمغہ جیتا۔۔ اس مقابلے کو ’خفیہ ہتھیار بننے والے مقابلے‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بعد میں ڈیلی نے سوشل میڈیا پردکھایا کہ وہ کیا بُن رہے تھے۔۔۔ اپنے فرانسیسی کچے کے لیے ایک جمپر۔

بائلز: ذہنی صحت کی اہمیت

سیمون بائلز کی اس اعلان پر تعریف کی گئی کہ وہ اپنی ذہنی صحت پر توجہ دینے کے لیے خواتین کی جمناسٹکس ٹیم کے فائنل میں حصہ نہیں لیں گی۔

بائلز نے اپنے فیصلے کے اعلان کے بعد کہا ’میں کہتی ہوں کہ ذہنی صحت کو اہمیت دیں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ اپنے کھیل سے لطف اندوز نہیں ہوں گے اور آپ جتنا چاہیں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کی ٹیم روس کے بعد دوسرے نمبر پر رہی اور 2010 کے بعد یہ اس کا پہلا نقصان تھا۔ بائلز نے سب سے پہلے روس کی کپتان انجلینا میلنیکووا کو مبارکباد دی۔

مزید چار ایونٹس میں حصہ نہ لینے کے بعد وہ بیم ایونٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے واپس آئیں جہاں انھیں کانسی کا تمغہ ملا۔

اگرچہ ٹوکیو میں انھوں نے ویسا کھیل نہیں پیش کیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی، لیکن وہ اسے ایک سیکھنے والے تجربے کے طور پر دیکھتی ہیں۔

انھوں نے اپنے بیم ایونٹ کے بعد صحافیوں کو بتایا ’یقینی طور پر ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالنا زیادہ اہم ہے، ہم انسان بھی ہیں اور ہمارے جذبات ہیں۔‘

امید کی کرن

اس سال کے اولمپکس کے دوران ایک کھلاڑی کی منگنی بھی ہوئی۔

ارجنٹائن کی فینسر ماریہ بیلن پیریز مورس کو ہنگری کی اینا مارٹن کے خلاف مقابلے میں تو شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ خالی ہاتھ گھر نہیں گئیں۔

،تصویر کا ذریعہTyC Sports

میچ کے بعد انٹرویو کے دوران ان کے کوچ اور طویل مدت کے ساتھی لوکاس سوسیڈو ان کے پیچھے ایک بورڈ لیے کھڑے تھے جس پر لکھا تھا: ’کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ پلیز‘

لاطینی امریکہ میں اس لمحے کی وائرل ویڈیو میں پیریز مورس کو ’ہاں‘ کہتے سنا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں