اسد طور پر حملہ: 'ملزمان نے کہا ہے کہ خاموش ہو جاؤ ورنہ گولی مار دوں گا' thumbnail 195

اسد طور پر حملہ: ‘ملزمان نے کہا ہے کہ خاموش ہو جاؤ ورنہ گولی مار دوں گا’

ویب ڈیسک — 

“تين لوگ میرے فليٹ ميں داخل ہوئے۔ مجھے پوری طاقت سے اندر دھکيلا اور ایک شخص نے پستول سر پر رکھ کر اپنا تعارف مبینہ طور پر ملک کی ایک خفیه سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار کے طور پر کرایا اور کہا، آئی ایم آئی ایس آئی، خاموش ہو جاؤ، ورنہ گولی مار دوں گا۔”

یہ کہنا ہے صحافی اسد علی طور کا جنہیں اسلام آباد میں تین نامعلوم ملزمان نے منگل کی شب ان کے فلیٹ میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

تینوں ملزمان کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم اسد طور کہتے ہیں کہ ملزمان انہیں مارتے پیٹتے رہے اور کہتے رہے کہ “تمہاری جرات کيسے ہوئی کہ تم آئی ايس آئی پر رپورٹ کرتے ہو اور ان کا نام ليتے ہو۔”

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسد طور نے بتایا کہ انہوں نے ملزمان کو جواباً کہا کہ “ميں ایک صحافی ہوں اور خبر رپورٹ کرتا ہوں۔ اگر خبر ميں آئی ايس آئی کا نام ہو گا تو ميں بطور ادارہ اس کا نام لوں گا۔ یہ ہمارے ملک کا ادارہ ہے۔”

ان کے بقول، “ملزمان مار پیٹ کے دوران کہتے رہے کہ تم باہر کی فنڈنگ پر چل رہے ہو۔ بتاؤ باہر سے کتنے پيسے لے رہے ہو؟ جس پر میں نے کہا کہ اگر آپ واقعی آئی ایس آئی سے ہیں تو ميرے اکاؤنٹس ديکھے ہوں گے۔ ميرے اکاؤنٹ میں تنخواہ کے علاوہ کچھ بھی نہيں آتا۔”

اسد طور نے بتايا کہ حملہ آوروں نے ان کے ہاتھ پير باندھ کر انہيں بری طرح مارا پيٹا اور پستول کے بٹ مار مار کر ان کی کہنياں لہو لہان کر ديں اور ان کے چيخنے چلانے پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹيج ميں ماسک پہنے تین مبینہ ملزمان کو جلدی جلدی عمارت کی لابی سے سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے ديکھا جا سکتا ہے۔

اسد طور نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ ان پر ہونے والا تشدد ان کی اپنی ذات کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ يہ پوری صحافی برادری کا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول اگر ايک کيس پر کارروائی ہو جائے تو شايد مستقبل ميں ايسا نہ ہو۔

صحافی اسد طور کے مطابق ان کی بعض اداروں پر تنقيدی تحریروں کی وجہ سے انہیں دھمکياں ملتی رہتی تھيں۔

اسد طور کے ان الزامات پاکستان کی حکومت یا فوج کی طرف سے کوئی باضابطہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب دفاعی تجزيہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعيب نے اسد طور پر حملے کو ایک ‘سازش’ قرار دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم اداروں کے پاس اتنا وقت نہيں کہ وہ اپنی اہم ذمہ دارياں چھوڑ کر اتنے غير ضروری کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کے الزام لگا دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سچ بھی مان لیا جائے۔

امجد شعيب کے بقول پاکستان ميں جتنی صحافتی آزادی ہے اتنی اور کہيں بھی نہيں۔

صحافتی تنظیموں، سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے صحافی اسد طور پر ہونے والے حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسے مرکزی شہر میں صحافیوں کے ساتھ پے در پے اس طرح کے واقعات رونما ہونے پر سوالات بھی اُٹھائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں صحافی احمد نورانی، عمر چیمہ، مطیع اللہ جان اور ابصار عالم بھی نامعلوم افراد کے تشدد اور حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کا ایک بل بھی پیش کیا گیا ہے جس کے بعد صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے عناصر کی نشان دہی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم ‘پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس’ نے جمعے کو اس واقعے پر ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمٰن نے ڈی آئی جی آپریشنز کی زیرِ نگرانی ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں